ٹی بی کی بیماری اب ایڈز کی طرح مہلک

Last Update : Saturday 31 October 2015 - 10:39 PM

ٹی بی کی بیماری اب ایڈز کی طرح مہلک

عالمی ادرۂ صحت کے مطابق تپِ دق یا عام فہم میں ٹی بی کہلانے والی بیماری اب ایڈز کی طرح ہی مہلک ترین بیماری بن گئی ہے۔

دونوں بیماریوں سے سنہ 2014 میں گیارہ اور بارہ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔

عالمی ادرۂ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایک قابلِ علاج بیماری ہوتے ہوئے بھی تپِ دق کے اعداد و شمار ناقابلِ قبول ہیں۔

میڈیسن سینس فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار انتہائی مایوس کن ہے اور ٹی بی کے خلاف بچاؤ میں ناکامی کی تنبیہہ ہیں۔

عالمی ادراۂ صحت کی ٹی بی سی متعلق سالانہ رپورٹ کے مطابق تپِ دق سے لڑنے کے لیے بڑے بڑے اقدامات کیے گئے جن کی وجہ سے سنہ 1990 کے بعد سے شرح اموات نصف ہوئی ہے۔ اور اس بیماری میں مبتلا ہونے کا تناسب بھی سنہ 2000 سے ایک اعشاریہ پانچ فیصد کم ہوا ہے۔

ایڈز سے بچاؤ کی ادویات کے باعث اس بیماری میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او میں تپِ دق سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریو نے بی بی سی نیوز کو بتایا ’دنیا بھر میں تپِ دق اور ایڈز سے متاثر ہو کر مرنے والے افراد کی تعداد تقریباً برابر ہے۔‘

’ تپِ دق بھی اب ایڈز کی سطح کی بیماری بن گئی ہے۔‘

120324070316_tuberculosis_india_624x351_bbc_nocredit

ٹی بی سے نئے متاثر ہونے والے مریضوں کا تعلق چین، بھارت، انڈونیشیا، نائیجریا اور پاکستان سے ہے۔

ایڈز سے ہلاکتوں کی تعداد سنہ 2000 کے بعد سے کم ہویی ہے اور سالانہ اس سے بارہ لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

جبکہ سنہ 2014 میں تپِ دق کے باعث جان گنوانے والے افراد کی تعداد پندرہ لاکھ ہے۔ لیکن ان میں سے چار لاکھ کو سرکاری طور پر ایڈز کے مریضوں میں شامل کیا گیا چونکہ وہ ایچ آئی وی پازیٹیو بھی تھے۔

عالمی ادارۂ صحت ٹی بی اور ایڈز کو دو بڑی قاتل بیماریاں قرار دے رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر جنل مارگریٹ چین کا کہنا ہے کہ سنہ 1990 کے بعد سے بہت فرق پڑا ہے تاہم اگر دنیا اس وبا کو ختم کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے خدمات اور تحقیق کے لیے سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔

عالمی ادارۂ صحت اگلے سال تپِ دق کے خاتمے کے لیے اپنے لائحہ عمل تیار کرے گی جس کے مطابق سنہ 2030 تک اس بیماری سے ہونے والے اموات کو 90 فیصد تک کم کیا جائے گا۔

Short Link
Leave a Reply
0 comments

Sorry Comments are closed

Close
Please support the site