فتح اللہ گولن کے متنازع نظریات اور طیب اردگان

Last Update : Sunday 24 July 2016 - 9:45 AM

فتح اللہ گولن کے متنازع نظریات اور طیب اردگان

ہم ذیل میں ان کے چند متنازع نظریات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ فتح اللہ گولن کے افکار عوام پر واضح ہوسکیں۔ کہتے ہیں-

غیر مسلم کافر کے جسم کا ریشہ ریشہ مسلمان ہوتاہے۔

• فطرت اورانسانیت تخلیق کی دو ایسی کتابیں ہیں جن کے ہر لفظ سے خدا کا وجود ظاہر ہوتا ہے۔

• مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہے وہ جو چاہے کرے۔(حوالہ:گولن کامضمون “جمہوریت اور اسلام”)

• 1998ءمیں عیسائی پوپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ یہودی اور عیسائی بھی جنت میں جائیں گے۔اور قرآن وحدیث میں صرف مسلمانوں کے لیے پیش کردہ جنت کا وعدہ عرب کے لوگوں کی محض قرآن میں تحریف ہے(نعوذبااللہ)

• گولن کے بقول عیسی علیہ السلام کانزول قرب قیامت جسمانی نہیں ہوگا۔ (حوالہ:مضمون گولن “مکالمہ بین المذاہب”)

• مومنین غیرمسلم لوگوں کےساتھ اسی طرح کا پیار کریں جو خدا کے ساتھ ہوتا ہے۔(گولن کا مضمون “انسان پرستی اور انسانی محبت©”) ظاہر بات ہے کافر اور خدائے برحق کے ساتھ کی جانے والی محبت کبھی ایک جیسی نہیں ہوسکتی۔

• ترکی میں جب حجاب کے خلاف شوروغوغابرپاتھا تب گولن صاحب نے فتوی دیا کہ حجاب کوئی لازمی چیز نہیں ہے۔ فتح اللہ گولن کے دو تین مضامین پڑھنے کے بعد موصوف کے یہ نظریات سامنے آئے اگر تفصیل سے پڑھا جائے تو نہ معلوم کیا کچھ سامنے آئے۔اس حقیقت سے قطعا انکار نہیں کہ موصوف انتہائی محنتی ہیں۔چنانچہ 60 سے زائد کتابوں کے مصف بھی ہیں۔لیکن افسوس یہ محنت اسلاف سے ہٹ کر من پسند اور متنازعہ نظریات کے پرچار میں صرف ہورہی ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ان نظریات کے پرچار میں موصوف ضعیف حتی کہ موضوع روایات تک بیان کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ اپنے مضمون میں انسان پرستی کی دلیل میں موضوع حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ کا فرمان ہے کہ “سارے انسان کنگھی کے دندانوں کی طرح برابر ہیں”۔حیرت ہے اتنے بڑے”محقق عالم”موضوع روایت کو کیسے رسول اللہ کی طرف منسوب کرسکتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ترکی سمیت عالم اسلام کے اکثر مسلمان گولن صاحب کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ شک اس وقت مزید پختہ ہوجاتا ہے جب امریکہ پچھلے ڈیڑھ عشرے سے عرب کے مشہور داعی جمہویت اور مکالمہ بین المذاہب کے سرگرم حامی یوسف القرضاوی پر امریکی داخلے پر پابندی عائد کیے ہوئے ہو اور گولن صاحب کو کھلے عام سپوٹ کرتا ہو۔ تاریخ بھی یہی کہتی ہے جدت کے نام پر اسلام کی تشریح کرنے کے لیے جو بھی اٹھا مسلمانوں کی اکثریت نے اسے مسترد کردیا۔ جہاں تک گولن اور اردگان کی باہمی کشمکش کا تعلق ہے وہ اگرچہ کسی حد تک سیاسی ہوسکتی ہے تاہم یہ حقیقت ہے گولن اپنے خفیہ عزائم کے لیے اردگان کا کندھا استعمال کرنا چاہتے رہے اور ناکامی کی صورت میں ان سے الگ ہوگئے اور درپردہ سازشیں کرنے لگے۔یہی وجہ ہے ترکی کی سعید نورسی مرحوم کے جانشینوں میں نجم الدین اربکان،پروفیسر آک غندو سمیت ترکی کی اکثریتی آبادی گولن کو سازشی سمجھتی ہے۔

چندماہ پہلے ترکی کے عظیم صوفی بزرگ شیخ عبدالباقی نقشبندی کے بیٹے سے ملاقات ہوئی اردگان واوغلو سمیت سیاسی افراد شیخ عبدالباقی سے خصوصی تعلق رکھتے ہیں۔ان کے وفد میں شامل لوگ گولن کو غدار کہہ رہے تھے۔بہرحال منصف مسلمانوں کو انصاف کا ساتھ دینا چاہیے اور اسلاف کے سمجھے ہوئے حقیقی اسلام کے خلاف پیش کیے جانے والے جدت پسندوں کے خفیہ عزائم سے دور رہنا چاہیے۔

اللہ ہمیں حق کی سمجھ اور ساتھ دینے کی توفیق دے

Short Link
Leave a Reply
0 comments
*Name
*Email
Required fields*

Your email address will not be published.

Comments Rules : Dont Use Bad Words

Can be ban if used bad words.

Close
Please support the site