سیف الله “الله کی تلوار

Last Update : Saturday 23 April 2016 - 2:54 PM

سیف الله “الله کی تلوار

سیف الله “الله کی تلوار ۔۔۔۔۔۔ حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ بستر علالت پر تھے اپنے خادم کو بلایا اور کہا کہ میری کمر پر دیکھو کیا کوئی ایسی جگہ ہے کہ جس پر “تیر” تلوار”نیزے” کے زخم کا نشان نہ ہو خادم نے دیکھا اور کہا کہ اے صحابی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کوئی جگہ ایسی نہیں جو زخم سے خالی ہو فرمایا میرے ہاتھ دیکھو میرے پاؤں دیکھو میرے سینے کو دیکھو کوئی جگہ جہاں دشمن نے وار نہیں کیا ہو؟؟؟،

نہیں میرے آقا ایسی کوئی جگہ نہیں جو زخم سے خالی ہو۔۔۔

پھر مجھے بتاؤ تو سہی کہ مجھے موت کیوں بستر پر آرہی ہے

میں تو آگے بڑھ کر لڑنے والا تھا میں نے ہر میدان میں اترنے سے قبل شہادت کی تمنا کی تھی میں چاہتا تھا کہ دشمنان دین میرے ٹکڑے ٹکڑے کر کے شہید کردیں اور میں روز قیامت اپنے جسم کے ٹکڑے رب کو دکھا سکوں کیوں میرے رب نے مجھے شہادت کی موت میدان جہاد میں نہیں دی۔۔۔۔

خادم نے کہ اے میرے آقا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امام الانبیاء صلی الله علیہ وسلم نے آپ کو ” سیف الله ” الله کی تلوار” کا لقب دیا تھا اگر آپ کو میدان جہاد میں شہید کردیا جاتا تو کفار کہتے کہ دیکھو ہم نے رب کی تلوار کو توڑ ڈالا ہے ، آپ کو بستر پر موت اس لیے دی ہے رب نے کہ “الله کی تلوار ہمیشہ کے لیے قائم رہے”

آج کے دور میں اگر آپ نے “سیف الله ثانی” دیکھنی ہے تو ملا عمر کو دیکھ لیجے کہ رب نے اسے اپنے عظیم لیڈر حضرت خالد بن ولید کی طرح بستر پر موت دے کر بتا دیا ہے کفار کو کہ یہ تلوار نہ کسی کے روکے سے رک سکے گی نہ کسی کے توڑے ٹوٹ سکے گی اسلام کی عظمت کا یہ قافلہ یونہی رواں دواں رہے گا انشاء الله

Short Link
Leave a Reply
0 comments
*Name
*Email
Required fields*

Your email address will not be published.

Comments Rules : Dont Use Bad Words

Can be ban if used bad words.

Close
Please support the site